# معاشرے میں نماز کا راسخ اور ہمہ گیر ہونا، اسلامی معاشرے تک رسائی کا لازمہ

- سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
- تاریخِ اشاعت: 1 اکتوبر 2026 (2026-10-01)
- URL: https://mojtabakhamenei.world/ur/messages/message-33rd-national-prayer-conference/
- Persian original: https://mojtabakhamenei.world/fa/messages/message-33rd-national-prayer-conference/

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"نماز قائم کرنے" کے عظیم امر پر توجہ اور خاص طور پر نماز کی قومی کانفرنس کا انعقاد ان ضروری اور لازمی اقدامات میں سے ہے، جو انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز سے ملک میں مجاہد اور عوامی عالم، استاد قرآن اور ماہر مبلغ حجۃ الاسلام والمسلمین قرائتی دامت برکاتہ کی کوششوں سے شروع ہوا ہے۔ اس امر پر عظیم المرتبت رہبر شہید اعلیٰ اللہ مقامہ کی خصوصی توجہ اور گزشتہ بتیس کانفرنسوں سے متعلق ان کے پیغامات میں دی گئی اہم، مسلسل اور تاکید کے ساتھ ہدایات بھی اس پالیسی کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ بلاشبہ نماز کے بارے میں گفتگو یا تحریر وحی الہی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم الصلاۃ والسلام کے ہی شایان شان اور ان کے مرتبے کے مطابق ہے اور مجھ جیسے شخص کا قلم اس سے کہیں چھوٹا ہے کہ نماز کے معارف کی گہرائی کے بارے میں کچھ تحریر کر سکے۔ تاہم اسلامی معاشرے کا تشخص اور ضروریات اور اس کے خادموں، خصوصاً اسلامی انقلاب کی قیادت کے فرائض اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس سلسلے میں کچھ جملے اپنے آپ کی، عوام کے تمام افراد کی اور عہدیداران کی یاد دہانی کے لیے تحریر کروں۔

نماز، خداوند عالم جل جلالہ کی عظیم اور خوب صورت ترین نعمتوں میں سے ایک، دین کا سب سے اہم پہلو، مظہر اور ستون اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے لامحدود اور لازوال سرچشمۂ الہی سے قریبی اور براہ راست تعلق قائم کرنے کا وسیلہ ہے۔ فلاح و رستگاری کی یہ اکسیر اور حیات طیبہ کا ستون، شیطان نفس اور دنیوی شیطانوں کے خلاف انسان کی جدوجہد میں ایک مضبوط و مستقل سہارا اور کبھی ختم نہ ہونے والا ذخیرہ بھی ہے اور عشق، امید، مہربانی اور سکون کا ابلتا ہوا چشمہ بھی ہے۔ نماز کے قیام اور استغفار کے ذریعے اللہ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔

نماز کا فریضہ صرف ایک انفرادی ذمہ داری نہیں ہے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق نماز قائم کرنا صالح بندوں کی حکومت کا پہلا ثمرہ اور علامت ہے: "یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے۔" (سورۂ حج، آيت 41) اس آیت کا، سورۂ مبارکۂ حج میں اللہ کے دوستوں اور ان کے جہاد کے بارے میں الہی نصرت کے وعدے والی آیت کے فوراً بعد آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نماز کے قیام، اللہ کے ذکر اور اس پر امید و اعتماد کے مضبوط سہارے کے طور پر، جہاد، فتح اور ان میدانوں میں کامیابی میں، خصوصاً اس جدوجہد کے میدان میں جو آج ایران کی قوم کے سامنے ہے، ایک خاص کردار رکھتا ہے۔

آج جب عزیز ایرانی عوام کی طاقت اور اقتدار کے سازگار حالات پہلے سے زیادہ فراہم ہو چکے ہیں تو ملت کی ہر فرد نماز کے قیام کے بار بار دہرائے جانے والے اس الہی حکم کی مخاطب ہے: "اقیموا الصلاۃ... نماز قائم کرو۔" اس کے علاوہ معاشرے میں مؤثر تمام افراد، والدین اور گھرانوں سے لے کر ٹیچروں اور دوستوں تک، اساتذہ اور غیر معمولی صلاحیت والے افراد سے لے کر معروف شخصیات اور مشہور افراد تک اور اسی طرح تمام ثقافت ساز اداروں اور مراکز تک کی اس معاملے میں دوہری ذمہ داری ہے، جن میں مساجد، نماز جمعہ، اسکول، یونیورسٹیاں، اعلیٰ دینی تعلیمی مراکز، ریڈیو اور ٹی وی کا ادارہ، ثقافتی اور سماجی کارکنان اور عوامی رضاکار شامل ہیں، خصوصاً وہ لوگ اور وہ ادارے جو نوعمر اور نوجوان طبقے سے رابطے میں ہیں۔

خالص محمدی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پرچم بلند کرنے اور اسلامی حکمرانی پر فخر کرنے والے معاشرے اور ملک میں نماز کو اس کے تمام اعلیٰ مراحل اور ارتقائی سطحوں کے ساتھ قائم کرنا اہم ترین امور میں شامل ہیں اور تحریک اور اسلامی انقلاب کے مرحلے سے اسلامی معاشرے کے مرحلے تک کے سفر کی راہ ہموار کرنے کے لیے ضروری امر ہے اور اس کے بعد ہی اسلامی تمدن کے مرحلے تک پہنچنا ممکن ہوگا۔ نماز کا ہر سطح تک پھیل جانا، اس کا وسیع اور ہمہ گیر ہونا اور پھر اسے اچھی طرح ادا کرنے کی عمومی کوشش، اس اہم مقصد تک پہنچنے کی جدوجہد کے دو بنیادی پہلو ہیں اور مساجد کو آباد کرنا اور جماعت و جمعہ کی نمازوں کی تعداد میں اضافے اور ظاہری کیفیت کو بہتر بنانے کے لیے دیگر اقدامات اس اہم مقصد کے حصول کے لیے ضروری مقدمات ہیں۔ ان تمام امور میں ائمہ جماعت اور ائمہ جمعہ کا کردار نہایت نمایاں ہے، جنھیں عوام کے لیے پناہ گاہ، ان کی بات سننے والا اور ان کے دل کی باتیں قبول کرنے والا ہونا چاہیے۔

مجھے امید ہے کہ خداوند متعال کے فضل و کرم اور ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصی توجہ اور دعا سے ہماری عزیز قوم اور ہمارا ملک نماز قائم کرنے اور اس کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کے معاملے میں کامیاب اور کامران ہوگا۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای

1 اکتوبر 2026
