یہ اصل فارسی متن کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی متن

بسم الله الرحمن الرحیم
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔

۹ آبان، بعثی جارحین کے خلاف عوامی کارنامے اور اسلام کے مجاہدوں کے دلیرانہ آپریشن، اور انہیں جزیرۂ آبادان سے باہر نکال دینے کی سالگرہ ہے، جو ۱۳۵۹ میں پہلی مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے صرف چالیس دن بعد انجام پایا۔

یہ اہم کارنامہ، جو آٹھ سالہ مقدس دفاع میں ایرانی قوم کی پہلی فتح شمار ہوتا ہے اور جس کے بارے میں کم ہی بات کی گئی ہے، آپریشن ذوالفقاری کے نام سے موسوم ہوا، اور اس میں ہر دور میں ہمارے اسلامی وطن کے دشمنوں اور جارحوں کا مقابلہ کرنے کے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں۔

ان دنوں عراق پر ایک مستبد حکمران حکومت کرتا تھا جس کا عراقیوں کے عقائد اور روایات سے کوئی صحیح تعلق نہ تھا، اور وہ عراق کی شریف قوم کے مسلک کے برخلاف، جو بجا طور پر ایرانی عوام کے ساتھ برادری کا رشتہ رکھتی ہے، یہ گمان کرتا تھا کہ چند نعروں اور کھوکھلے دعووں کے ذریعے دونوں قوموں کے اس گہرے رشتے کو توڑ سکتا ہے جس کی تاریخ مکتب اور خاندانِ عصمت و طہارت صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین کی مودت پر استوار ہے۔

بعثی دشمن نے بھی ان دنوں آج کے دشمن کی طرح جارحیت، قبضے اور محاصرے کے رائج طریقے اختیار کیے، اور اس کے شوم منصوبے کا مؤثر مقابلہ کرنے اور اس پر فتح پانے کا راستہ بھی عوام اور جاں نثار فورسز کی ہوشیاری اور ان کی غیورانہ استقامت تھی، جو فوج اور سپاہ پاسداران کے دلیروں کی شجاعت کے شانہ بشانہ تھی۔

اس دن ایک سادہ اور غیور ایرانی مزدور نے فداکاری اور جاں نثاری کے ساتھ لوگوں کو دشمن کے شوم منصوبے سے آگاہ کیا، اور عوامی فورسز اور اس علاقے کی مساجد سے وابستہ لوگوں کی ایک جماعت ایمان، الٰہی جذبے اور کم سے کم وسائل کے ساتھ، آبادان کے مجاہد اور فداکار امام جمعہ، باعمل اور شجاع عالم، مرحوم آیت اللہ جمی رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی میں میدانِ مبارزہ میں اتر آئی۔

اس عوامی تحریک نے جدید ہتھیاروں سے لیس جارح دشمن کو پشیمان کر دیا، اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ایرانی قوم کی مختلف قومیتوں کا ایک سلسلہ اسلامی ایران کی سرحدوں کے دفاع کے لیے منظم ہو گیا، یہاں تک کہ ایک سال سے بھی کم عرصے بعد، اللہ کے لطف و کرم سے اور امام امت قدس سرہ الشریف کے حکم سے آبادان کا محاصرہ توڑ دیا گیا۔

اور آج بھی وہی ہوشیاری اور ایمان، وہی جذبہ اور ارادہ، وہی فداکاری اور جاں نثاری، اور وہی غیرت اور استقامت ہے جو حضرت حق جل و علا کی عنایات اور ہمارے آقا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی توجہات کے سائے میں، بڑے شیطان کی تسلط پسندی، جرائم اور جارحیت کے مقابلے میں اور تیسری مسلط کردہ جنگ میں فتح حاصل کرنے میں ایران کی مظلوم اور مقتدر قوم کی مددگار ہے۔

«وَما النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ الله العَزیزِ الحَکیمِ.»
اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب، حکمت والا ہے۔ (سورۂ آل عمران، آیت 126)

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
۹ آبان ۱۴۰۵