یہ اصل فارسی متن کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی متن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
۲۹ فروردین، فوجِ جمہوریِ اسلامیِ ایران کے مبارک یومِ تاسیس کی، جسے خمینیِ کبیر رحمۃ اللہ علیہ کی حکیمانہ پہل پر اس نام سے موسوم کیا گیا، تمام فوجیوں، ان کے معزز خاندانوں اور ایران کی عظیم قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انقلابِ اسلامی کی کامیابی فوج کی زندگی کے دو ادوار کے درمیان حدِ فاصل شمار ہوتی ہے اور اسے اس دورِ کمزوری کا خاتمہ سمجھنا چاہیے جو اس سرزمین کے دشمنوں کی جانب سے اور اندرونی خائنوں کے ہاتھوں ملک کی فوج اور اس کے دلیر و صادق فوجیوں پر مسلط کیا گیا تھا۔ اس کے بعد فوج اپنے صحیح مقام پر کھڑی ہوئی اور پہلوی کے طاغوتی و فاسد نظام سے وابستہ ہونے کے بجائے قوم کی گرم آغوش میں آ گئی، کیونکہ درحقیقت فوج قوم کی اولاد ہے اور عوام کے گھروں کے بیچ سے ابھرتی ہے۔ جلد ہی فوج امریکہ، طاغوتِ پہلوی کی باقیات اور ان علیحدگی پسندوں کے منحوس منصوبوں کے مقابلے میں ڈٹ گئی جو ایک ٹوٹا بکھرا ایران چاہتے تھے، اور اس نے حماسے رقم کیے۔
اسلام کی فوج اب، گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح، دلیری کے ساتھ اس سرزمین اور اس پرچم کا دفاع کر رہی ہے جس سے وہ وابستہ ہے، اور اپنے مضبوط الٰہی اور عوامی سہارے پر بھروسہ کرتے ہوئے، گھنی اور مستحکم صفوں میں، مسلح افواج کے دیگر مجاہدین کے شانہ بشانہ، محاذِ کفر و استکبار کی دو سرکردہ فوجوں سے پنجہ آزمائی کر رہی ہے اور اس نے ان کی کمزوری اور ذلت کو دنیا والوں کی نظروں کے سامنے آشکار کر دیا ہے؛ جس طرح اس کے ڈرون بجلی کی طرح امریکی اور صیہونی مجرموں پر گرتے ہیں، اسی طرح اس کی دلیر بحریہ دشمنوں کو نئی شکستوں کا تلخ ذائقہ چکھانے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ۲۹ فروردین یگانۂ روزگار، ہمارے عظیم الشان شہید رہبر کا یومِ ولادت بھی ہے؛ وہ شخصیت جس نے انقلاب کی پہلی دہائی ہی سے فوج کو اس کی تحلیل کی منحوس صداؤں کے مقابلے میں محفوظ رکھنے اور پھر مختلف جہات میں اس کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے سب سے زیادہ کوشش کی۔
بلاشبہ اس اصیل عوامی ادارے کی مختلف صلاحیتوں کی ترقی کا سلسلہ، جو ملک کے مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک پاسداری کرتا ہے، دوگنی سنجیدگی سے جاری رکھا جانا چاہیے اور ان شاء اللہ مستقبلِ قریب میں اس کے حصول کے لیے ضروری تدابیر جاری کی جائیں گی۔ اس راہ میں ان ہیروز کی شخصیات پر توجہ، جنہوں نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں انتظامیہ کی پے در پے نسلوں میں فوج کی رہنمائی اور قیادت کی اور جن میں سے بہت سے شہیدوں کے قافلے میں شامل ہو گئے، نیز ان کے پروگراموں اور اقدامات اور ان کے بزرگوارانہ اور مخلصانہ مسلک پر توجہ، مسلح افواج کے تمام اجزاء کے لیے سبق آموز اور الہام بخش ہوگی؛ قرنی، فلاحی، نامجو، فکوری، بابائی، ستاری، اردستانی اور صیاد شیرازی جیسے بزرگوں سے لے کر اس کے آخری نامور شہداء سید عبدالرحیم موسوی اور عزیز نصیرزادہ تک۔
خداوندِ متعال کا سلام و درود ہو فوجِ جمہوریِ اسلامیِ ایران کے تمام مجاہدین پر، اس کے امراء اور کمانڈروں سے لے کر اس کے خاموش اور گمنام کارکنوں اور سپاہیوں تک؛ اور خداوندِ متعال کا سلام و درود ہو اس کے تمام ایثارگروں اور جانبازوں پر، اور اس کی خاص سلامتی و رحمت ہو ایران کی عظیم قوم کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ کے تمام شہداء کے مکرم خاندانوں پر۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، ۲۹ فروردین ۱۴۰۵