حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت اور یومِ نرس کی مناسبت سے پیغام
یہ اصل فارسی متن کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی متن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر سال پانچ جمادی الاولیٰ اس خاتون کی ولادت باسعادت کی یاد دلاتا ہے جو خمسۂ طیبہ صلوات اللہ و سلامہ علیہا و علیہم کی، جو خدا کی خلقت میں سب سے برتر شمار ہوتے ہیں، محبت، تربیت اور ہمراہی کے سائے میں پروان چڑھیں۔ اس نورانی مکتب میں پچاس سال سے زائد عرصے تک زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی پرورش اور نشوونما نے زمانوں کے اس درخشاں ستارے میں شرافت اور برتری کے عناصر کا ایسا رنگا رنگ جلوہ ظاہر کیا جو ہمیشہ اولیائے الٰہی کی تمجید، تحسین اور مباہات کا باعث رہا ہے۔ اس درخشندگی کا عروج حماسۂ عاشورا میں رونما ہوا: ایک طرف دشتِ کربلا کے مظلوموں کے لیے بے انتہا شفقت، خیر خواہی اور صابرانہ غمخواری نچھاور کرنا، اور دوسری طرف صلابت اور شجاعت کی گراں قدر ترین علامتوں میں سے ہونا۔
تحریک اور اسلامی انقلاب کی تاریخ شروع سے ایران کی خواتین اور بیٹیوں کی زینبی موجودگی کے مناظر سے بھری ہوئی ہے۔ قوم کی بے مثال بعثت کے دور میں، جو تیسرے دفاعِ مقدس میں رقم ہوئی، اس امر نے حیرت انگیز کیفیت اور کمیت اختیار کر لی۔ اب اسلامی ایران کی زینبی خواتین مختلف میدانوں میں، خصوصاً شہروں اور دیہاتوں کے چوکوں میں، اپنی نمایاں موجودگی کے ذریعے سخت جنگ کے محاذوں کے پیچھے عملی تبیین اور مزاحمت کی پیشرو ہیں؛ اس طرح کہ زمانے کے طاغوت، جو ہمیشہ اس قوم کا رنج، درد اور سرکوبی چاہتے ہیں، اپنے اندر اس عظیم لشکر کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں پاتے۔
اس سرزمین کے لوگوں نے، جو عترتِ طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین کے دلدادہ ہیں، دردمندوں کے ساتھ مہربانی و ہمدردی اور ان کے لیے فداکاری کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے، بجا طور پر زینبِ کبریٰ کے یومِ ولادت کو نرس کے مقام کی تکریم کا دن قرار دیا ہے؛ کیونکہ ان میں سے بہت سی اخلاقی صفات اور انسانی اقدار نرسوں کے محنت کش اور قابلِ قدر طبقے میں نمایاں ہیں۔ نرس کا کردار، بعض دیگر طبقات، جیسے اطباء، معلمین و مربیان، علمائے دین اور امدادی کارکنوں کی طرح، ایک حیات بخش اور امید آفرین کردار ہے۔ اسی لیے نرس کو کبھی رحمت کے فرشتے کی طرح دیکھا جاتا ہے، اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ دردمند اور رنجور افراد کی بدمزاجی اور بے قراری کے مقابلے میں مریضوں کے سکون، امید، بہتری اور علاج کے اسباب، اور نتیجتاً رحمتِ الٰہی کے نزول کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ البتہ مریضوں کے علاج میں نرسوں کا کردار، اطباء کے برخلاف، ایک مسلسل، پیگیر اور صابرانہ موجودگی کا متقاضی ہے۔ اس طرح کی موجودگی کا اثر جسمانی امور سے بالاتر ہوتا ہے اور یہ نفسیاتی اور روحانی دکھوں کا مرہم اور بہت سے مواقع پر ناامیدی کے غلبے میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ یوں جو کام اطباء کے بس سے باہر ہوتا ہے، وہ اس دلسوزانہ کردار کی ادائیگی سے انجام پاتا ہے۔
ایک ایسے زمانے میں جب استکبار کا خبیث نیٹ ورک آزاد منش اور مزاحمت کار قوموں، خصوصاً ایرانی قوم، پر طرح طرح کے ظلم اور جرائم ڈھانے کی کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا، اور منجملہ علاج اور دوا سے متعلق طرح طرح کی پابندیاں عائد کر کے عظیم ایرانی قوم پر رنج مسلط کرنے کے درپے ہے، نرسوں پر توجہ، نرسنگ برادری کی تقویت، اور نرسوں کے علم، مہارت، توانائی، نشاط، جذبے اور کرامت کا تحفظ اور ارتقاء، خصوصاً ان نرسوں کا جنہوں نے خود کو غیر نجی اداروں میں خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے، معاشرے کی جسمانی اور روحانی صحت و سلامتی پر اہم اثر رکھتا ہے۔ لہٰذا توقع ہے کہ شعبۂ صحت کے حکام اپنے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے تسلسل میں ان اہم امور کو ترجیح دیں۔
میں ان دونوں مناسبتوں پر عزیز قوم، اسلامی وطن کی فرض شناس اور باعزم خواتین، اور خاص طور پر نرس بہنوں اور بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آخر میں نرسنگ برادری کے مظلوم اور فداکار شہداء، خصوصاً دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں اور دی ۱۴۰۴ کے فتنے میں شہید ہونے والی نرسوں کے لیے رحمتِ الٰہی کا طلبگار ہوں، اور امید کرتا ہوں کہ ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا سے خداوند متعال ایرانی قوم کو پہلے سے زیادہ عزت و اقتدار اور ہر وہ چیز عطا فرمائے جو مکتبِ زینب سلام اللہ علیہا کی پیروی کے شایانِ شان ہے۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، ۲۴ مہر ۱۴۰۵