1. صفحۂ اول
  2. پیغامات
  3. 28 جون 2026

ہفتۂ عدلیہ اور آیت اللہ بہشتی اور ان کے رفقاء کی برسیِ شہادت کی مناسبت سے پیغام

یہ اصل فارسی متن کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی متن

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آلِ اللہ کی مصیبت اور حضرت ثار اللہ صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیہم اجمعین اور ان کے باوفا اصحاب کی شہادت کے ایام پر میں پوری ملتِ ایران اور امتِ اسلامی کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔

حق کے قیام، امت کی اصلاح اور ظلم و ستم کے مقابلے کے لیے حسینی تحریک و قیام، حق و باطل اور عدل و ظلم کے تقابل میں تاریخ کی بلند چوٹی ہے اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں کے لیے نہایت قیمتی اور ناقابلِ فراموش اسباق رکھتا ہے۔ سید الشہداء علیہ السلام کے خون کو خونِ خدا کہا جاتا ہے جو عالم کی رگوں میں جاری ہو کر حیات بخش حماسے رقم کرتا ہے۔ ایران کی اسلامی تحریک و انقلاب، چونکہ اسی نورانی سرچشمے سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے، اسے ہمیشہ حسینی قیام کے اہداف کے حصول کے درپے رہنا چاہیے۔ ہر سال ۷ تیر انقلاب کی اس برجستہ شخصیت کی یاد دلاتا ہے جس نے عدلیہ کی سربراہی سنبھال کر اس سمت میں انتھک جدوجہد کی، یہاں تک کہ انقلاب کے مخلص رفقاء کی ایک جماعت کے ساتھ شہادت کا شہد نوش کیا، اور ان کی مظلومیت اور ان کے ساتھ بہتر شہیدوں کی تعداد اس نظام اور اس کے معماروں کے حسینی ہونے کی تائید بن گئی۔

جمہوریِ اسلامیِ ایران کے نظام میں عدلیہ کا منصب عوام کے حقوق کی پاسداری، حقوقِ عامہ اور جائز آزادیوں کا احیاء، بدعنوانیوں کے خلاف جدوجہد، عدل کا نفاذ، حدودِ الٰہی کا قیام اور قانون کے اطلاق کی نگرانی ہے۔ اس راہ میں کامیابی کا ثمر، رضائے الٰہی کے حصول کے علاوہ، نظام کے اس ستون پر عوام کے اعتماد کی تقویت ہوگا۔ تمام قوتوں، اداروں اور ذمہ دار تنظیموں سے بجا توقع یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کو جمہوریِ اسلامی کے مقدس نظام کے مطلوبہ معیار اور قوم کے بلند مقام کے مطابق منظم اور ازسرِنو مرتب کریں۔ اس سلسلے میں عدلیہ کو امور کے عمل کی اصلاح اور نظام کے دیگر شعبوں کو حرکت میں لانے کے لیے ایک کم نظیر بلکہ بے مثال مقام حاصل ہے، اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ خود اس قوت کے اندر بھی اصلاح اور تعمیرِ نو کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ اس وقت معاشرے کی عمومی توقع یہ ہے کہ وہ عدلیہ کی کارکردگی میں اس امر پر عملی تاکید کا مشاہدہ کرے؛ اس طرح کہ عدالتی تبدیلی، تبدیلی کی دستاویز اور منصوبوں اور روڈ میپس میں درج الفاظ سے نکل کر عملی صورت اختیار کرے، اور اس کے جلوے تمام متعلقہ میدانوں میں، عدالتی کمپلیکسوں کے کمروں اور عدالتوں کے اجلاسوں سے لے کر عوامی ماحول اور سماجی فضا تک نمایاں ہوں؛ یہاں تک کہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں اس کے مثبت اثرات کو ہر قسم کی بدعنوانی سے قاطعانہ نمٹنے، حقوق کی پامالی میں کمی، مقدمات کی تیز رفتار سماعت، ججوں کے فیصلوں کی شفافیت اور استحکام میں اضافے، اور عدل کے معیارات تک آسان تر رسائی کی صورت میں دیکھیں۔ عدلیہ کی اس تصویر میں عدل کا نفاذ اس درجے تک پہنچنا چاہیے کہ ہر مظلوم اسے اپنی پناہ گاہ سمجھے، اور بالخصوص وہ لوگ جو کسی نہ کسی طرح کی طاقت رکھتے ہیں، دوسروں کے حقوق پر تجاوز کی جرأت نہ کریں، اور اس میں سفارش اور اثر و رسوخ کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو جائے، اور اس کے بعض شعبوں میں جان پہچان رکھنا کوئی امتیاز شمار نہ ہو۔

البتہ قوم کے حقوق کی بازیابی صرف انفرادی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ ان کے مختلف عمومی اور سماجی حقوق، معاشی تحفظ کے حق اور مواقع تک منصفانہ رسائی سے لے کر قدرتی نعمتوں سے منصفانہ استفادے، صحت مند ماحول، جائز آزادیوں اور مؤثر حکمرانی کے حق تک، سب عدل کے فروغ کی سمت میں اہم مسائل شمار ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس دور میں پوری ملتِ ایران سے متعلق سب سے اہم قانونی و عدالتی مسائل میں سے ایک، بین الاقوامی مجرموں اور عالمی مستکبرین و جارحین کے جرائم کے نتیجے میں، بالخصوص ۱۴۰۴ اور ۱۴۰۵ کے برسوں میں، ان کے پامال شدہ حقوق کی پیروی اور بازیابی ہے۔

دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مظلوم شہداء کے خون سے لے کر ہمارے عزیز ملک اور ملک کے اندر بلکہ باہر بھی مظلوم ملتِ ایران کے ہر فرد کو پہنچنے والے جسمانی، روحانی، مادی اور معنوی نقصانات اور صدمات تک؛ میناب اور لامرد میں بچوں کے قتل اور بے مثال جنگی جرائم سے لے کر طبی اور خدماتی مراکز پر حملوں تک؛ چند روزہ نومولود بچوں سے لے کر عزیز بزرگوں کے قتلِ عام تک؛ اور ان سب میں سرِفہرست بے مثال شخصیت، بے نظیر گوہر اور یگانۂ روزگار، عظیم الشان مجاہد پیشوا اعلی اللہ مقامہ الشریف کی شہادت؛ ان میں سے ہر ایک سینکڑوں بلکہ ہزاروں اہم قانونی مقدمات میں سے ایک مقدمہ تشکیل دیتا ہے جس کی ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں سنجیدگی سے پیروی کی جانی چاہیے۔ جو بات مسلّم ہے وہ یہ کہ مجرموں کا گریبان پکڑنا اور انہیں ان کے مجرمانہ اعمال کی سزا تک پہنچانا ضروری ہے۔

اس معاملے میں اہم نکتہ، اولاً، امریکی و صیہونی دشمن کے بعض سرغنوں کی جانب سے ان جرائم کا اعتراف بلکہ ان پر بے شرمانہ فخر ہے، جو یقیناً جرم کا اقرار شمار ہوتا ہے اور اس نے قوم کے پامال شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے مناسب طور پر زمین ہموار کر دی ہے۔

ثانیاً، گزشتہ سال ماہِ تیر میں عدالتی حکام کی شہید رہبرِ انقلاب سے آخری ملاقات میں، دوسری مسلط کردہ جنگ میں کیے گئے جرائم کی سماعت کے بارے میں ان کے حکم پر عمل درآمد کی طرف توجہ اور اہتمام کا تقاضا یہ ہے کہ اسے تیسری مسلط کردہ جنگ تک وسعت دی جائے اور فیصلہ صادر ہونے اور اس کے نفاذ کو اہل عناصر کے سپرد کیے جانے تک اس کی مسلسل پیروی کی جائے۔ یہ اقدام بذاتِ خود اس قسم کے جرائم کی تکرار کی روک تھام کرے گا۔

البتہ ہمہ جہت عدالتی تبدیلی کی راہ میں کامیابی اور مذکورہ اہداف تک پہنچنے میں مزید تیزی کے لیے مختلف تمہیدات اور لوازمات درکار ہیں، جو زیادہ تر عدالتی حکام کی سالانہ ملاقاتوں میں اور عظیم الشان شہید رہبر قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی تفصیلی ہدایات اور تاکیدات میں بارہا بیان کیے گئے ہیں، اور ان پر سنجیدہ توجہ اور ان کی تکمیل کے لیے کوشش، جو عدلیہ کے محترم حکام کی کامیابی کی کلید شمار ہوتی ہے، میری تاکید اور سنجیدہ خواہش ہے۔

عدل تک پہنچنے اور ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد کا راستہ ایک دشوار راستہ ہے جو اخلاص و توکل، اعلیٰ درجے کے تقویٰ، سنجیدہ محرک اور ارادے، دوگنی کوشش و ہمت، شجاعت و قاطعیت، عملی پہل اور جدید ٹیکنالوجیز اور امور کی اسمارٹ سازی سے صحیح استفادے کے ذریعے ہموار ہوگا۔ ان سب کا حصول، اذنِ الٰہی سے اور عدلِ منتظَر، ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں ممکن ہوگا، ان شاء اللہ۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، ۷ تیر ۱۴۰۵