یہ اصل فارسی متن کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی متن

کچھ عرصہ پہلے، تہران میں رہنے والے دس سالہ طالب علم علی رضا بخشی ایرج نے ۲۳ شہریور ۱۴۰۵ کو رہبر معظم انقلاب کی خدمت میں ایک پُرخلوص خط لکھا۔ اس خط میں اس نے آپ سے اپنی محبت اور آپ کی رہنمائی پر قدردانی کا اظہار کرتے ہوئے، آپ کے شکریے اور اسلام کے مجاہدین کی مدد کے طور پر ایک ہدیہ بھی پیش کیا۔

اس طالب علم کے خط کا متن یہ تھا:

خدا کے نام سے
سلام آقا۔
میں علی رضا بخشی ہوں۔
میں دس سال کا ہوں اور تہران میں رہتا ہوں۔
سچ بتاؤں تو مجھے نہیں پتا کہ میرا خط آپ تک پہنچے گا یا نہیں۔
کاش میں آپ سے پاس بیٹھ کر بات کر سکتا۔
سچ تو یہ ہے کہ آپ کی رہنمائی کی وجہ سے ہم آپ کے بہت احسان مند ہیں۔
یہ پیسے آپ کا شکریہ ادا کرنے اور اسلام کے مجاہدوں کی مدد کے لیے ہیں۔
آپ سے ملنے کا مشتاق
علی رضا بخشی ایرج
۱۴۰۵/۶/۲۳

پس نوشت: دیر سے ہی سہی، آپ کو سالگرہ مبارک ہو۔

یہ خط رہبر معظم انقلاب تک پہنچا اور حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اس طالب علم کے اظہارِ محبت کے جواب میں اس کے لیے ایک خط لکھا اور جواباً اسے ایک ہدیہ بھی عنایت کیا۔

رہبر معظم انقلاب کے جواب کا متن درج ذیل ہے:

بسم‌الله‌الرحمن‌الرحیم
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔

میرے عزیز دوست جناب علی رضا بخشی

سلام علیکم و رحمة الله و برکاته
آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں

آپ کی محبت بھری توجہ کا شکریہ۔ البتہ اس حقیر بندے کی ولادت اسفند کے مہینے میں ہے۔ جواب میں میں بھی آپ کی بزرگواری کے بدلے ایک ہدیہ، چاہے ناچیز ہی سہی، پیش کرتا ہوں۔ گھر والوں کو میرا سلام پہنچا دیجیے گا۔

سید مجتبیٰ خامنہ ای
۱۹ مہر ۱۴۰۵

پس نوشت: آپ کی لکھائی صاف اور پڑھنے میں آسان ہے۔

علی رضا بخشی کے نام سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ہاتھ سے لکھا جواب
علی رضا بخشی کے نام سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ہاتھ سے لکھا جواب
دس سالہ علی رضا بخشی کا سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نام خط
دس سالہ علی رضا بخشی کا سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نام خط