حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے تعزیتی اور بیعت کے پیغام کا جواب
یہ اصل فارسی متن کا ترجمہ ہے۔ اصل فارسی متن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم برادرِ عزیز و مجاہد، جناب شیخ نعیم قاسم، سیکریٹری جنرل حزب اللہ (ادام اللہ عمرہ و عزہ و عافیتہ)
سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ؛ عظیم الشان رہبرِ انقلابِ اسلامی کی شہادت پر آپ کا تعزیتی پیغام، نیز حزب اللہ میں لبنانی مجاہد بھائیوں کی جانب سے محبت اور مہربانی کا اظہار مجھے موصول ہوا۔
بلا شبہ عالمِ اسلام کے سخت ترین دشمنوں، یعنی امریکا اور خطے میں اس کی نیابتی قوت - سفاک صیہونی حکومت - کے مقابلے میں استقامت، ثابت قدمی اور صبر، شہید امام و قائد کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے تھا۔ یہ مزاحمت اور پائیداری اس عظیم قائد کی قیادت کے طویل برسوں کے دوران جاری رہی، اور حاج قاسم سلیمانی اور سپاہِ پاسداران اور فوج کے دیگر سینئر کمانڈروں جیسے گراں قدر شہداء کا نذرانہ اس راستے کی درستی کا سب سے بڑا گواہ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی مزاحمت کی تاریخ مجاہدت، شجاعت اور شوقِ شہادت سے لبریز ہے؛ مزاحمت کے کمانڈروں نے دوسرے مجاہدین سے پہلے، کسی بھی دھمکی سے خوف کھائے بغیر، اس راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔ شہید شیخ راغب حرب اور سید عباس موسوی سے لے کر عزیز شہید، سید الشہدائے مزاحمت سید حسن نصر اللہ اور سید ہاشم صفی الدین تک، سب اسی راہ و روش کے نمونے تھے۔
آپ، جو خود لبنان میں اس مبارک مزاحمت کی صفِ اوّل میں رہے ہیں، آج اس حساس اور تاریخی لمحے میں اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ آپ کی دانش مندی، ذہانت اور شجاعت کے بارے میں اپنی شناخت کی بنا پر امید کرتا ہوں کہ آپ صیہونی دشمن کے منصوبوں کو نقش بر آب کر کے انہیں درہم برہم کر سکیں گے اور ایک بار پھر لبنان کی عزیز قوم کو سکون اور افتخار کا ذائقہ چکھائیں گے۔
ایک بار پھر تاکید کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ امام راحل اور شہید قائد کی راہ کے تسلسل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مستقل پالیسی صیہونی-امریکی دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کی حمایت جاری رکھنے پر استوار ہے۔
ایک بار پھر آپ کے اظہارِ ہمدردی پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ اور تمام عزیز مجاہد بھائیوں کے لیے توفیق اور سربلندی کی آرزو کرتا ہوں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، ۱۰ فروردین ۱۴۰۵ ہجری شمسی بمطابق ۱۰ شوال ۱۴۴۷ ہجری قمری